پولیس
خیبر: جعلی انکاؤنٹر کا انکشاف، پولیس نے متاثرہ خاندان سے ننواتی مانگی
05-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
36 وزٹ
Read in English
خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں پولیس نے ایک سنگین جعلی انکاؤنٹر کا اعتراف کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے قبائلی روایات کے تحت ننواتی (معافی کی درخواست) مانگی ہے۔
واقعے کا پس منظر
گزشتہ ماہ 27 ستمبر کو ضلع خیبر کے علاقے ملاگوری میں پولیس نے غیر کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے دوران دو نوجوانوں اشفاق آفریدی اور ہدایت خان کو گرفتار کیا تھا۔ اسی کارروائی میں ملاگوری تھانے کے ایس ایچ او ریاض حسین آفریدی زخمی ہوئے اور بعد میں شہید ہوگئے۔
پولیس کا دعویٰ تھا کہ دونوں گرفتار ملزمان کو جائے وقوعہ پر تفتیش کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس سے دونوں ملزمان ہلاک ہوگئے۔ تاہم مقامی قبائلی عمائدین اور متاثرہ خاندانوں نے اسے جعلی انکاؤنٹر قرار دیا اور احتجاج شروع کر دیا۔
پولیس کا اعتراف اور ننواتی
واقعے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا اور ڈی پی او خیبر واقار احمد کو معطل کر دیا۔
اب پولیس حکام نے متاثرہ خاندان سے قبائلی رواج کے تحت ننواتی مانگی ہے، جسے خاندان نے قبول کر لیا۔ اس موقع پر ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر حکمت خان آفریدی، ڈی ایس پی ملک مظہر آفریدی اور دیگر افسران موجود تھے۔ سابق اراکین اسمبلی شفیق شیر آفریدی اور بلاول آفریدی سمیت درجنوں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔
مالی معاوضہ اور ایف آئی آر واپسی
جرگہ کے فیصلے کے مطابق پولیس دونوں متاثرہ خاندانوں کو ہر ایک کو 75 لاکھ روپے ادا کرے گی، جبکہ حکومت کی جانب سے الگ مالی پیکج بھی دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ متاثرہ خاندان اور ان کے قبائلی ساتھیوں کے خلاف درج ایف آئی آر بھی واپس لی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ کا موقف
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ "قوم کے بچوں کو اس طرح قتل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، شہید ایس ایچ او اور مقتول شہری دونوں قوم کے بچے ہیں، متاثرہ خاندانوں کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔"
یہ واقعہ خیبر پختونخوا میں پولیس کی جانب سے مبینہ جعلی انکاؤنٹرز کے بڑھتے ہوئے رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں قبائلی روایات کے تحت معاملات نمٹائے جاتے ہیں۔
واقعے کا پس منظر
گزشتہ ماہ 27 ستمبر کو ضلع خیبر کے علاقے ملاگوری میں پولیس نے غیر کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے دوران دو نوجوانوں اشفاق آفریدی اور ہدایت خان کو گرفتار کیا تھا۔ اسی کارروائی میں ملاگوری تھانے کے ایس ایچ او ریاض حسین آفریدی زخمی ہوئے اور بعد میں شہید ہوگئے۔
پولیس کا دعویٰ تھا کہ دونوں گرفتار ملزمان کو جائے وقوعہ پر تفتیش کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس سے دونوں ملزمان ہلاک ہوگئے۔ تاہم مقامی قبائلی عمائدین اور متاثرہ خاندانوں نے اسے جعلی انکاؤنٹر قرار دیا اور احتجاج شروع کر دیا۔
پولیس کا اعتراف اور ننواتی
واقعے کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا اور ڈی پی او خیبر واقار احمد کو معطل کر دیا۔
اب پولیس حکام نے متاثرہ خاندان سے قبائلی رواج کے تحت ننواتی مانگی ہے، جسے خاندان نے قبول کر لیا۔ اس موقع پر ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر حکمت خان آفریدی، ڈی ایس پی ملک مظہر آفریدی اور دیگر افسران موجود تھے۔ سابق اراکین اسمبلی شفیق شیر آفریدی اور بلاول آفریدی سمیت درجنوں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔
مالی معاوضہ اور ایف آئی آر واپسی
جرگہ کے فیصلے کے مطابق پولیس دونوں متاثرہ خاندانوں کو ہر ایک کو 75 لاکھ روپے ادا کرے گی، جبکہ حکومت کی جانب سے الگ مالی پیکج بھی دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ متاثرہ خاندان اور ان کے قبائلی ساتھیوں کے خلاف درج ایف آئی آر بھی واپس لی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ کا موقف
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ "قوم کے بچوں کو اس طرح قتل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، شہید ایس ایچ او اور مقتول شہری دونوں قوم کے بچے ہیں، متاثرہ خاندانوں کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے گا۔"
یہ واقعہ خیبر پختونخوا میں پولیس کی جانب سے مبینہ جعلی انکاؤنٹرز کے بڑھتے ہوئے رجحان کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں قبائلی روایات کے تحت معاملات نمٹائے جاتے ہیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں