پولیس
ایبٹ آباد: پولیس فائرنگ میں ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوشن کا ملازم جاں بحق، لواحقین کا احتجاج
05-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
51 وزٹ
Read in English
ایبٹ آباد کے تھانہ میرپور کی حدود پھل گلاب روڈ پر مبینہ پولیس فائرنگ کے واقعے میں ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوشن کے ملازم سپروائزر سردار عارف جاں بحق ہوگئے۔
لواحقین کے مطابق سردار عارف کا ایک غیر ملکی شہری کے ساتھ تنازعہ چل رہا تھا، جس کے دوران پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان کے گھر میں داخل ہو کر بیوی اور بچوں کے سامنے انہیں فائرنگ کرکے قتل کیا۔
واقعے کے بعد مقتول کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس کے بعد ورثاء اور لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے مین شاہراہِ قراقرم کو دونوں اطراف سے بند کردیا۔ مظاہرین نے ایس ایچ او تھانہ میرپور سمیت مبینہ طور پر ملوث دیگر اہلکاروں کو معطل کرنے اور واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ایس پی ہیڈکوارٹر اشتیاق خان بھی ہسپتال پہنچے اور لواحقین سے مذاکرات کیے۔ پولیس حکام نے واقعے کی انکوائری کرکے انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
لواحقین نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے غیر ملکی شہری کا دفاع کرتے ہوئے سردار عارف کو مبینہ طور پر گھر میں تشدد کا نشانہ بنایا اور متعدد گولیاں فائر کیں۔ تاہم واقعے سے متعلق پولیس کا مؤقف اور مکمل حقائق سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
دوسری جانب ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوشن کے ملازمین نے بھی مبینہ طور پر ملوث ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج تک ہسپتال میں ایمرجنسی سروسز کے علاوہ دیگر سروسز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
نمازِ مغرب کے بعد شاہراہِ قراقرم کی بندش کے باعث سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔
واضح رہے کہ مقتول سردار عارف، انسانی حقوق و بین المذاہب ہم آہنگی ضلع ایبٹ آباد کے چیئرمین سردار عبدالرشید کے صاحبزادے تھے۔
لواحقین کے مطابق سردار عارف کا ایک غیر ملکی شہری کے ساتھ تنازعہ چل رہا تھا، جس کے دوران پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان کے گھر میں داخل ہو کر بیوی اور بچوں کے سامنے انہیں فائرنگ کرکے قتل کیا۔
واقعے کے بعد مقتول کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس کے بعد ورثاء اور لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے مین شاہراہِ قراقرم کو دونوں اطراف سے بند کردیا۔ مظاہرین نے ایس ایچ او تھانہ میرپور سمیت مبینہ طور پر ملوث دیگر اہلکاروں کو معطل کرنے اور واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ایس پی ہیڈکوارٹر اشتیاق خان بھی ہسپتال پہنچے اور لواحقین سے مذاکرات کیے۔ پولیس حکام نے واقعے کی انکوائری کرکے انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
لواحقین نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے غیر ملکی شہری کا دفاع کرتے ہوئے سردار عارف کو مبینہ طور پر گھر میں تشدد کا نشانہ بنایا اور متعدد گولیاں فائر کیں۔ تاہم واقعے سے متعلق پولیس کا مؤقف اور مکمل حقائق سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
دوسری جانب ایوب ٹیچنگ انسٹیٹیوشن کے ملازمین نے بھی مبینہ طور پر ملوث ایس ایچ او اور دیگر اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج تک ہسپتال میں ایمرجنسی سروسز کے علاوہ دیگر سروسز کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
نمازِ مغرب کے بعد شاہراہِ قراقرم کی بندش کے باعث سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔
واضح رہے کہ مقتول سردار عارف، انسانی حقوق و بین المذاہب ہم آہنگی ضلع ایبٹ آباد کے چیئرمین سردار عبدالرشید کے صاحبزادے تھے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں