پاکستان
سہیل آفریدی اور مراد سعید کی 2011 کی تصویر سوشل میڈیا پر زیرِ گردش، سیاسی پس منظر کے دعوے
08-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
44 وزٹ
Read in English
اسلام آباد: سہیل آفریدی اور مراد سعید کی ایک پرانی تصویر سوشل میڈیا پر دوبارہ گردش کر رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ تصویر 2011 کے دور کی ہے، جب دونوں مبینہ طور پر ریمنڈ ڈیوس کیس سے متعلق احتجاجی سرگرمیوں کے دوران گرفتار ہوئے تھے۔
وائرل تصویر میں دونوں نوجوان حالتِ گرفتاری میں دکھائی دیتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ تصویر کے ساتھ شیئر کیے جانے والے سوشل میڈیا دعووں میں کہا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کا مقدمہ پاکستان میں سیاسی اور عوامی سطح پر شدید بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔
ریمنڈ ڈیوس کو جنوری 2011 میں لاہور میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں مارچ 2011 میں مقتولین کے خاندانوں کی جانب سے دیت قبول کیے جانے کے بعد عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹس میں اس وقت کی سیاسی سرگرمیوں اور موجودہ سیاسی شخصیات کے درمیان تعلق بھی بیان کیا جا رہا ہے۔ تاہم تصویر کے ساتھ منسلک بعض دیگر دعوے، بالخصوص کسی مخصوص سیاسی شخصیت یا وکیل کی جانب سے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے براہِ راست “ڈیل” کرانے کا دعویٰ، آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے اور اسے حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی منظرنامہ
تصویر شیئر کرنے والے صارفین کا کہنا ہے کہ 2011 میں جن نوجوانوں نے سیاسی احتجاج اور مزاحمتی سرگرمیوں میں حصہ لیا، وہ آج ملکی سیاست میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض پوسٹس میں اس وقت کی گرفتاریوں کو موجودہ سیاسی حمایت اور مقبولیت کے تناظر میں بھی بیان کیا جا رہا ہے۔
تاہم کسی بھی پرانی تصویر کے موجودہ سیاسی دعووں کے ساتھ استعمال سے قبل اس کے اصل وقت، مقام اور پس منظر کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
اہم وضاحت: یہ خبر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر اور اس کے ساتھ کیے گئے دعووں کے پس منظر میں تیار کی گئی ہے۔ تصویر کی مکمل اصل، گرفتاری کی درست تفصیلات اور اس سے منسلک تمام سیاسی دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
وائرل تصویر میں دونوں نوجوان حالتِ گرفتاری میں دکھائی دیتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں نظر آ رہی ہیں۔ تصویر کے ساتھ شیئر کیے جانے والے سوشل میڈیا دعووں میں کہا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کا مقدمہ پاکستان میں سیاسی اور عوامی سطح پر شدید بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔
ریمنڈ ڈیوس کو جنوری 2011 میں لاہور میں دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں مارچ 2011 میں مقتولین کے خاندانوں کی جانب سے دیت قبول کیے جانے کے بعد عدالت نے انہیں بری کر دیا تھا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹس میں اس وقت کی سیاسی سرگرمیوں اور موجودہ سیاسی شخصیات کے درمیان تعلق بھی بیان کیا جا رہا ہے۔ تاہم تصویر کے ساتھ منسلک بعض دیگر دعوے، بالخصوص کسی مخصوص سیاسی شخصیت یا وکیل کی جانب سے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے براہِ راست “ڈیل” کرانے کا دعویٰ، آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے اور اسے حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی منظرنامہ
تصویر شیئر کرنے والے صارفین کا کہنا ہے کہ 2011 میں جن نوجوانوں نے سیاسی احتجاج اور مزاحمتی سرگرمیوں میں حصہ لیا، وہ آج ملکی سیاست میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض پوسٹس میں اس وقت کی گرفتاریوں کو موجودہ سیاسی حمایت اور مقبولیت کے تناظر میں بھی بیان کیا جا رہا ہے۔
تاہم کسی بھی پرانی تصویر کے موجودہ سیاسی دعووں کے ساتھ استعمال سے قبل اس کے اصل وقت، مقام اور پس منظر کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
اہم وضاحت: یہ خبر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر اور اس کے ساتھ کیے گئے دعووں کے پس منظر میں تیار کی گئی ہے۔ تصویر کی مکمل اصل، گرفتاری کی درست تفصیلات اور اس سے منسلک تمام سیاسی دعووں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں