پاکستان
سعودی عرب میں بھیک مانگنے کے لیے عمرہ ویزے کا غلط استعمال: مانسہرہ، ایبٹ آباد، سندھ اور میانوالی کے افراد بھی ملوث
08-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
32 وزٹ
Read in English
سعودی عرب میں بھیک مانگنے کے لیے عمرہ ویزے کا غلط استعمال: مانسہرہ، ایبٹ آباد، سندھ اور میانوالی کے افراد بھی ملوث
اسلام آباد – عمرہ اور حج جیسے مقدس سفر عبادت کے لیے ہوتے ہیں، لیکن گزشتہ چند برسوں میں بعض پاکستانی شہریوں کی جانب سے عمرہ ویزے کو بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرنے کے واقعات سامنے آنے کے بعد پاکستانی حکام نے اس معاملے پر کارروائیاں سخت کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان واقعات میں ملوث افراد میں خیبرپختونخوا کے اضلاع مانسہرہ اور ایبٹ آباد، صوبہ سندھ اور ضلع میانوالی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔
کراچی ایئرپورٹ پر کارروائی
مارچ 2026 میں ایف آئی اے نے بتایا کہ رمضان کے دوران صرف کراچی ایئرپورٹ پر تقریباً 900 ایسے افراد کو بیرونِ ملک جانے سے روکا گیا جن کے بارے میں حکام کو خدشہ تھا کہ وہ سعودی عرب جا کر بھیک مانگنے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق اسکریننگ میں سابقہ سفری ریکارڈ اور سعودی عرب سے ڈی پورٹ کیے جانے کی معلومات سمیت مختلف عوامل دیکھے گئے۔
گرفتاریاں
یہ مسئلہ صرف خدشات تک محدود نہیں۔ مارچ 2026 میں ایف آئی اے نے سعودی عرب سے واپس آنے والے چار پاکستانی شہریوں کو مبینہ طور پر وہاں بھیک مانگنے کے الزام میں گرفتار کیا۔
ایف آئی اے کے مطابق یہ افراد عمرہ ویزے پر سعودی عرب گئے تھے۔
ڈی پورٹ ہونے والوں کی تعداد میں کمی
جولائی 2026 میں سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے بھیک مانگنے کے باعث ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ تعداد:
· 2024: تقریباً 4,800
· 2025: 1,100· 2026: جولائی تک 802
حکام نے اس کمی کو سخت کارروائیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
ملتان ایئرپورٹ پر کارروائی
ستمبر 2026 میں بھی ملتان ایئرپورٹ پر ایک مرد اور ایک خاتون کو ایف آئی اے نے سعودی عرب روانگی سے روکا۔
حکام کا الزام تھا کہ دونوں عمرہ ویزے کی آڑ میں سعودی عرب جا کر بھیک مانگنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
مانسہرہ، ایبٹ آباد، سندھ اور میانوالی کے افراد کی نمایاں شرکت
ذرائع کے مطابق ان واقعات میں خیبرپختونخوا کے اضلاع مانسہرہ اور ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھی بڑی تعداد شامل ہے، جنہیں ایف آئی اے نے مختلف ایئرپورٹس پر روانگی سے روکا یا واپسی پر گرفتار کیا۔
اسی طرح صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے افراد، خاص طور پر کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے رہائشیوں کی بھی بڑی تعداد ان واقعات میں ملوث پائی گئی ہے۔
ضلع میانوالی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ان واقعات میں شامل پائے گئے ہیں، جنہیں مختلف ایئرپورٹس پر روکا گیا یا واپسی پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ امر تشویشناک ہے کہ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے بعض افراد روزگار کی تلاش یا دیگر وجوہات کی بنا پر عمرہ ویزے کا غلط استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب جا کر بھیک مانگنے میں ملوث پائے گئے۔
اہم وضاحت
ایسے واقعات یقیناً تشویش کا باعث ہیں، لیکن چند افراد کے عمل کو تمام پاکستانی عمرہ یا حج زائرین سے منسوب کرنا درست نہیں۔
اسی طرح یہ دعویٰ بھی بغیر سرکاری اعلان کے نہیں کرنا چاہیے کہ ایسے واقعات کی وجہ سے تمام پاکستانیوں کے عمرہ ویزے بند کیے جا رہے ہیں۔
زائرین کی ذمہ داری
مقدس مقامات پر جانے والے ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقامی قوانین اور ویزا شرائط کی مکمل پابندی کرے اور ایسا کوئی عمل نہ کرے جو دوسرے پاکستانی زائرین کے لیے مشکلات یا ملک کی بدنامی کا باعث بنے۔
سوال قارئین سے
آپ کے خیال میں عمرہ ویزے کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف مزید سخت کارروائی ہونی چاہیے؟
اہم نوٹ
📌 وضاحت: پوسٹ میں استعمال شدہ تصویر کو کسی مخصوص شخص کے بھیک مانگنے کا ثبوت نہ سمجھا جائے۔ خبر پاکستان سے سعودی عرب جانے والے بعض افراد کے خلاف رپورٹ ہونے والی مجموعی کارروائیوں سے متعلق ہے۔
اسلام آباد – عمرہ اور حج جیسے مقدس سفر عبادت کے لیے ہوتے ہیں، لیکن گزشتہ چند برسوں میں بعض پاکستانی شہریوں کی جانب سے عمرہ ویزے کو بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرنے کے واقعات سامنے آنے کے بعد پاکستانی حکام نے اس معاملے پر کارروائیاں سخت کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان واقعات میں ملوث افراد میں خیبرپختونخوا کے اضلاع مانسہرہ اور ایبٹ آباد، صوبہ سندھ اور ضلع میانوالی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔
کراچی ایئرپورٹ پر کارروائی
مارچ 2026 میں ایف آئی اے نے بتایا کہ رمضان کے دوران صرف کراچی ایئرپورٹ پر تقریباً 900 ایسے افراد کو بیرونِ ملک جانے سے روکا گیا جن کے بارے میں حکام کو خدشہ تھا کہ وہ سعودی عرب جا کر بھیک مانگنے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق اسکریننگ میں سابقہ سفری ریکارڈ اور سعودی عرب سے ڈی پورٹ کیے جانے کی معلومات سمیت مختلف عوامل دیکھے گئے۔
گرفتاریاں
یہ مسئلہ صرف خدشات تک محدود نہیں۔ مارچ 2026 میں ایف آئی اے نے سعودی عرب سے واپس آنے والے چار پاکستانی شہریوں کو مبینہ طور پر وہاں بھیک مانگنے کے الزام میں گرفتار کیا۔
ایف آئی اے کے مطابق یہ افراد عمرہ ویزے پر سعودی عرب گئے تھے۔
ڈی پورٹ ہونے والوں کی تعداد میں کمی
جولائی 2026 میں سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے بھیک مانگنے کے باعث ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ تعداد:
· 2024: تقریباً 4,800
· 2025: 1,100· 2026: جولائی تک 802
حکام نے اس کمی کو سخت کارروائیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
ملتان ایئرپورٹ پر کارروائی
ستمبر 2026 میں بھی ملتان ایئرپورٹ پر ایک مرد اور ایک خاتون کو ایف آئی اے نے سعودی عرب روانگی سے روکا۔
حکام کا الزام تھا کہ دونوں عمرہ ویزے کی آڑ میں سعودی عرب جا کر بھیک مانگنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
مانسہرہ، ایبٹ آباد، سندھ اور میانوالی کے افراد کی نمایاں شرکت
ذرائع کے مطابق ان واقعات میں خیبرپختونخوا کے اضلاع مانسہرہ اور ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے افراد کی بھی بڑی تعداد شامل ہے، جنہیں ایف آئی اے نے مختلف ایئرپورٹس پر روانگی سے روکا یا واپسی پر گرفتار کیا۔
اسی طرح صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے افراد، خاص طور پر کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے رہائشیوں کی بھی بڑی تعداد ان واقعات میں ملوث پائی گئی ہے۔
ضلع میانوالی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ان واقعات میں شامل پائے گئے ہیں، جنہیں مختلف ایئرپورٹس پر روکا گیا یا واپسی پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ امر تشویشناک ہے کہ مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے بعض افراد روزگار کی تلاش یا دیگر وجوہات کی بنا پر عمرہ ویزے کا غلط استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب جا کر بھیک مانگنے میں ملوث پائے گئے۔
اہم وضاحت
ایسے واقعات یقیناً تشویش کا باعث ہیں، لیکن چند افراد کے عمل کو تمام پاکستانی عمرہ یا حج زائرین سے منسوب کرنا درست نہیں۔
اسی طرح یہ دعویٰ بھی بغیر سرکاری اعلان کے نہیں کرنا چاہیے کہ ایسے واقعات کی وجہ سے تمام پاکستانیوں کے عمرہ ویزے بند کیے جا رہے ہیں۔
زائرین کی ذمہ داری
مقدس مقامات پر جانے والے ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقامی قوانین اور ویزا شرائط کی مکمل پابندی کرے اور ایسا کوئی عمل نہ کرے جو دوسرے پاکستانی زائرین کے لیے مشکلات یا ملک کی بدنامی کا باعث بنے۔
سوال قارئین سے
آپ کے خیال میں عمرہ ویزے کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف مزید سخت کارروائی ہونی چاہیے؟
اہم نوٹ
📌 وضاحت: پوسٹ میں استعمال شدہ تصویر کو کسی مخصوص شخص کے بھیک مانگنے کا ثبوت نہ سمجھا جائے۔ خبر پاکستان سے سعودی عرب جانے والے بعض افراد کے خلاف رپورٹ ہونے والی مجموعی کارروائیوں سے متعلق ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں