کیپٹن (ر) صفدر کا مریم نواز کے سرکاری طیارے کے استعمال کا دفاع، ’’اگر میرے بس میں ہو تو 22 ارب کا جہاز لے دوں‘‘
07-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
40 وزٹ
Read in English
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر نے وزیراعلیٰ کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے حاصل کیے گئے سرکاری طیارے کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اختیار ان کے پاس ہو تو وہ مریم نواز کے لیے 11 ارب روپے نہیں بلکہ 22 ارب روپے کا جہاز بھی خرید دیں۔
کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ مریم نواز صوبے کی وزیراعلیٰ ہیں اور انہیں سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے مختلف شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق، ’’مریم نواز وزیراعلیٰ ہیں، اگر انہیں راولپنڈی یا کراچی جانا ہو تو وہ جہاز پر نہیں تو کس پر سفر کریں گی۔‘‘
سرکاری طیارے کا معاملہ کیا ہے؟
پنجاب حکومت کی جانب سے 2019 میں تیار کردہ Gulfstream GVII-G500 طیارہ حاصل کیے جانے پر رواں سال سے سیاسی اور عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ مختلف رپورٹس میں اس طیارے کی مالیت تقریباً 11 ارب روپے بتائی گئی ہے، جبکہ بعض ذرائع نے اس کی قیمت 11.7 ارب روپے تک بیان کی ہے۔
فروری 2026 میں Transparency International Pakistan نے بھی طیارے کی خریداری کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے پنجاب حکومت سے وضاحت طلب کی تھی۔ تنظیم کو موصول ہونے والی شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ طیارے کی خریداری میں پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کی خلاف ورزی ہوئی۔
دوسری جانب پنجاب حکومت کی جانب سے مؤقف سامنے آیا کہ یہ طیارہ مجوزہ Air Punjab منصوبے کے تحت حاصل کیے جانے والے فضائی بیڑے کا حصہ ہے۔
سیاسی تنقید
طیارے کی خریداری اور وزیراعلیٰ کے اس کے استعمال پر اپوزیشن اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ عوامی وسائل کو مہنگے سرکاری سفری ذرائع پر خرچ کرنے کے بجائے صوبے کے دیگر عوامی مسائل پر توجہ دی جانی چاہیے۔
حکومتی مؤقف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کو سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے محفوظ اور مؤثر سفری سہولت فراہم کرنا حکومت کی انتظامی ضرورت کا حصہ ہے۔
یوں سرکاری طیارے کی خریداری اور استعمال کا معاملہ سیاسی بحث کا موضوع بن چکا ہے، جبکہ اس کے اخراجات، خریداری کے طریقۂ کار اور سرکاری استعمال سے متعلق شفافیت کے سوالات بھی زیرِ بحث ہیں۔
کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ مریم نواز صوبے کی وزیراعلیٰ ہیں اور انہیں سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے مختلف شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق، ’’مریم نواز وزیراعلیٰ ہیں، اگر انہیں راولپنڈی یا کراچی جانا ہو تو وہ جہاز پر نہیں تو کس پر سفر کریں گی۔‘‘
سرکاری طیارے کا معاملہ کیا ہے؟
پنجاب حکومت کی جانب سے 2019 میں تیار کردہ Gulfstream GVII-G500 طیارہ حاصل کیے جانے پر رواں سال سے سیاسی اور عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ مختلف رپورٹس میں اس طیارے کی مالیت تقریباً 11 ارب روپے بتائی گئی ہے، جبکہ بعض ذرائع نے اس کی قیمت 11.7 ارب روپے تک بیان کی ہے۔
فروری 2026 میں Transparency International Pakistan نے بھی طیارے کی خریداری کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے پنجاب حکومت سے وضاحت طلب کی تھی۔ تنظیم کو موصول ہونے والی شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ طیارے کی خریداری میں پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کی خلاف ورزی ہوئی۔
دوسری جانب پنجاب حکومت کی جانب سے مؤقف سامنے آیا کہ یہ طیارہ مجوزہ Air Punjab منصوبے کے تحت حاصل کیے جانے والے فضائی بیڑے کا حصہ ہے۔
سیاسی تنقید
طیارے کی خریداری اور وزیراعلیٰ کے اس کے استعمال پر اپوزیشن اور بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ عوامی وسائل کو مہنگے سرکاری سفری ذرائع پر خرچ کرنے کے بجائے صوبے کے دیگر عوامی مسائل پر توجہ دی جانی چاہیے۔
حکومتی مؤقف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کو سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے محفوظ اور مؤثر سفری سہولت فراہم کرنا حکومت کی انتظامی ضرورت کا حصہ ہے۔
یوں سرکاری طیارے کی خریداری اور استعمال کا معاملہ سیاسی بحث کا موضوع بن چکا ہے، جبکہ اس کے اخراجات، خریداری کے طریقۂ کار اور سرکاری استعمال سے متعلق شفافیت کے سوالات بھی زیرِ بحث ہیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں