پولیس
32 سال تک پولیس افسر کے طور پر خدمات انجام دینے والا شخص مبینہ طور پر جعلی تقرری نامے پر بھرتی ہونے کا انکشاف
07-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
34 وزٹ
Read in English
کراچی: سندھ پولیس میں مبینہ جعلسازی اور تقرری کے ریکارڈ سے متعلق ایک غیر معمولی معاملہ سامنے آیا ہے، جس میں ایک شخص کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نے مبینہ طور پر جعلی تقرری نامے کی بنیاد پر پولیس میں ملازمت حاصل کی اور تقریباً 32 سال تک مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیتا رہا۔
رپورٹس کے مطابق اعجاز ترین نامی شخص نے 1989 میں مبینہ طور پر ایک جعلی تقرری نامے کے ذریعے بطور اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) پولیس میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں وہ مختلف عہدوں پر ترقی حاصل کرتے ہوئے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (DSP) اور بعض مواقع پر قائم مقام سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) کے عہدے تک بھی پہنچا۔
ذرائع کے مطابق اعجاز ترین نے نوابشاہ سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں اہم پولیس عہدوں پر ذمہ داریاں انجام دیں اور طویل عرصے تک سرکاری ملازم کی حیثیت سے تنخواہوں اور دیگر مراعات سے مستفید ہوتا رہا۔
معاملہ عدالت تک کیسے پہنچا؟
رپورٹس کے مطابق اعجاز ترین نے ایس ایس پی کی سینیارٹی سے متعلق اپنا معاملہ عدالت میں اٹھایا۔ عدالتی کارروائی کے دوران جب متعلقہ محکمے کو ان کے تقرری اور سروس ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا حکم دیا گیا تو ان کے ابتدائی تقرری ریکارڈ کی چھان بین شروع ہوئی۔
تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ ان کی بنیادی تقرری کا حکم نامہ ہی جعلی تھا۔ اس انکشاف کے بعد ان کی طویل سرکاری سروس، ترقیوں اور عہدوں سے متعلق معاملات بھی سوالات کی زد میں آ گئے۔
ملازمت سے برطرفی
رپورٹس کے مطابق عدالتی احکامات کی روشنی میں آئی جی سندھ کی جانب سے اعجاز ترین کی ملازمت ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق معاملے میں انہیں ماضی میں حاصل ہونے والی تنخواہوں اور سرکاری مراعات سے متعلق مالی ذمہ داری کا بھی سامنا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی قانونی اور مالی کارروائی متعلقہ حکام کے ریکارڈ اور عدالتی فیصلوں سے مشروط ہوگی۔
پولیس کے نظام پر سوالات
یہ معاملہ سندھ پولیس کے بھرتی، سروس ریکارڈ کی تصدیق، ترقیوں اور افسران کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے نظام پر بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
اگر کسی شخص نے واقعی جعلی تقرری دستاویز کے ذریعے پولیس میں داخل ہو کر کئی دہائیوں تک مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں تو یہ معاملہ صرف ایک فرد کی مبینہ جعلسازی تک محدود نہیں رہتا بلکہ ادارہ جاتی سطح پر ریکارڈ کی تصدیق اور نگرانی کے طریقۂ کار کی مؤثریت کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت پیدا کرتا ہے۔
نوٹ: اس خبر میں بیان کردہ جعلسازی اور دیگر الزامات کو دستیاب اطلاعات اور عدالتی کارروائی کے تناظر میں منسوب کیا گیا ہے۔ حتمی قانونی حیثیت متعلقہ عدالتوں اور سرکاری ریکارڈ سے متعین ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق اعجاز ترین نامی شخص نے 1989 میں مبینہ طور پر ایک جعلی تقرری نامے کے ذریعے بطور اسسٹنٹ سب انسپکٹر (ASI) پولیس میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں وہ مختلف عہدوں پر ترقی حاصل کرتے ہوئے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (DSP) اور بعض مواقع پر قائم مقام سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (SP) کے عہدے تک بھی پہنچا۔
ذرائع کے مطابق اعجاز ترین نے نوابشاہ سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں اہم پولیس عہدوں پر ذمہ داریاں انجام دیں اور طویل عرصے تک سرکاری ملازم کی حیثیت سے تنخواہوں اور دیگر مراعات سے مستفید ہوتا رہا۔
معاملہ عدالت تک کیسے پہنچا؟
رپورٹس کے مطابق اعجاز ترین نے ایس ایس پی کی سینیارٹی سے متعلق اپنا معاملہ عدالت میں اٹھایا۔ عدالتی کارروائی کے دوران جب متعلقہ محکمے کو ان کے تقرری اور سروس ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا حکم دیا گیا تو ان کے ابتدائی تقرری ریکارڈ کی چھان بین شروع ہوئی۔
تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ ان کی بنیادی تقرری کا حکم نامہ ہی جعلی تھا۔ اس انکشاف کے بعد ان کی طویل سرکاری سروس، ترقیوں اور عہدوں سے متعلق معاملات بھی سوالات کی زد میں آ گئے۔
ملازمت سے برطرفی
رپورٹس کے مطابق عدالتی احکامات کی روشنی میں آئی جی سندھ کی جانب سے اعجاز ترین کی ملازمت ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق معاملے میں انہیں ماضی میں حاصل ہونے والی تنخواہوں اور سرکاری مراعات سے متعلق مالی ذمہ داری کا بھی سامنا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی قانونی اور مالی کارروائی متعلقہ حکام کے ریکارڈ اور عدالتی فیصلوں سے مشروط ہوگی۔
پولیس کے نظام پر سوالات
یہ معاملہ سندھ پولیس کے بھرتی، سروس ریکارڈ کی تصدیق، ترقیوں اور افسران کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے نظام پر بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
اگر کسی شخص نے واقعی جعلی تقرری دستاویز کے ذریعے پولیس میں داخل ہو کر کئی دہائیوں تک مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں تو یہ معاملہ صرف ایک فرد کی مبینہ جعلسازی تک محدود نہیں رہتا بلکہ ادارہ جاتی سطح پر ریکارڈ کی تصدیق اور نگرانی کے طریقۂ کار کی مؤثریت کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت پیدا کرتا ہے۔
نوٹ: اس خبر میں بیان کردہ جعلسازی اور دیگر الزامات کو دستیاب اطلاعات اور عدالتی کارروائی کے تناظر میں منسوب کیا گیا ہے۔ حتمی قانونی حیثیت متعلقہ عدالتوں اور سرکاری ریکارڈ سے متعین ہوگی۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں