پاکستان
لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 تک جا پہنچا
13-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
37 وزٹ
Read in English
لاہور، 13 اکتوبر 2026ء: صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال تشویشناک ہو گئی ہے، جہاں شہر کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر قرار دیا گیا ہے۔
جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ایک عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ نے لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 199 ریکارڈ کیا ہے، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح اس سے کہیں زیادہ رپورٹ ہوئی ہے۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی صورتحال
رپورٹ کے مطابق، سی ای آر پی آفس گلبرگ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 300 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی فضائی آلودگی کی سطح بلند رہی۔
سی ای آر پی آفس، گلبرگ: 300
کاہنہ نو: 244
برکی روڈ: 224
ماڈل ٹاؤن: 220
ڈیجنس: 201
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر
فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث شہریوں کو احتیاط برتنے اور آلودہ فضا میں غیر ضروری طور پر زیادہ وقت گزارنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو موجودہ فضائی معیار کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔
ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کی سطح دن بھر تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو تازہ ترین ایئر کوالٹی رپورٹ اور متعلقہ اداروں کی ہدایات پر نظر رکھنی چاہیے۔
جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ایک عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ نے لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 199 ریکارڈ کیا ہے، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح اس سے کہیں زیادہ رپورٹ ہوئی ہے۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی صورتحال
رپورٹ کے مطابق، سی ای آر پی آفس گلبرگ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 300 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی فضائی آلودگی کی سطح بلند رہی۔
سی ای آر پی آفس، گلبرگ: 300
کاہنہ نو: 244
برکی روڈ: 224
ماڈل ٹاؤن: 220
ڈیجنس: 201
شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر
فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث شہریوں کو احتیاط برتنے اور آلودہ فضا میں غیر ضروری طور پر زیادہ وقت گزارنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو موجودہ فضائی معیار کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔
ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کی سطح دن بھر تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو تازہ ترین ایئر کوالٹی رپورٹ اور متعلقہ اداروں کی ہدایات پر نظر رکھنی چاہیے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں