بین الاقوامی
آبنائے ہرمز میں ڈوبنے والے جہاز کا سامان عمان کے ساحل پر پہنچنے لگا
16-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
43 وزٹ
Read in English
مسقط: آبنائے ہرمز میں ڈوبنے والے کنٹینر بردار جہاز کا سامان عمان کے ساحل تک پہنچنے لگا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مختلف واقعات میں دو جہاز نشانہ بننے کے بعد ڈوب گئے۔
جہاز کی تفصیلات
رپورٹس کے مطابق ایک جہاز پر ڈھائی ہزار سے زائد کنٹینرز موجود تھے، جن میں آئی فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات کا سامان بھی شامل تھا۔
سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق جہاز GFS Pride پر سوار عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ حکام کے مطابق کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
جہاز ڈوبنے کی وجہ سے متعلق متضاد دعوے
واقعے کی وجوہات کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں:
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا دعویٰ ہے کہ جہاز بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ڈوبا، کیونکہ وہ غیر مجاز راستے سے گزر رہا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جہاز کو پاسدارانِ انقلاب کے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔
سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
واقعے کی اصل وجوہات کے بارے میں مختلف بیانات سامنے آنے کے باعث حتمی صورتِ حال واضح نہیں ہو سکی۔
دوسرا جہاز بھی ڈوبنے کی اطلاع
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک اور جہاز Cape Dao بھی آبنائے ہرمز کے قریب ڈوب گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس جہاز پر 23 ستمبر کو حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔
آئی فونز اور مہنگے پرفیومز کے ڈبے سمندر میں تیرتے دکھائی دیے
جہاز ڈوبنے کے بعد سمندر کی سطح پر آئی فونز اور مہنگے پرفیومز کے ڈبے تیرتے ہوئے دکھائی دیے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں چھوٹی کشتیوں پر سوار افراد کو پانی سے مختلف اشیا نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم، ویڈیوز میں دکھائی دینے والے سامان کی مکمل شناخت اور اس کی اصل حیثیت کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
اہم وضاحت
یہ خبر بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور سرکاری بیانات میں سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ جہازوں کے ڈوبنے کے واقعات اور ان کی وجوہات سے متعلق حتمی نتائج کے لیے مزید تصدیق اور تحقیقات ضروری ہیں۔
جہاز کی تفصیلات
رپورٹس کے مطابق ایک جہاز پر ڈھائی ہزار سے زائد کنٹینرز موجود تھے، جن میں آئی فونز اور دیگر الیکٹرانک آلات کا سامان بھی شامل تھا۔
سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق جہاز GFS Pride پر سوار عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ حکام کے مطابق کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
جہاز ڈوبنے کی وجہ سے متعلق متضاد دعوے
واقعے کی وجوہات کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں:
ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا دعویٰ ہے کہ جہاز بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد ڈوبا، کیونکہ وہ غیر مجاز راستے سے گزر رہا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایرانی مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جہاز کو پاسدارانِ انقلاب کے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔
سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
واقعے کی اصل وجوہات کے بارے میں مختلف بیانات سامنے آنے کے باعث حتمی صورتِ حال واضح نہیں ہو سکی۔
دوسرا جہاز بھی ڈوبنے کی اطلاع
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک اور جہاز Cape Dao بھی آبنائے ہرمز کے قریب ڈوب گیا۔ اطلاعات کے مطابق اس جہاز پر 23 ستمبر کو حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں عملے کا ایک رکن ہلاک ہو گیا۔
آئی فونز اور مہنگے پرفیومز کے ڈبے سمندر میں تیرتے دکھائی دیے
جہاز ڈوبنے کے بعد سمندر کی سطح پر آئی فونز اور مہنگے پرفیومز کے ڈبے تیرتے ہوئے دکھائی دیے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں چھوٹی کشتیوں پر سوار افراد کو پانی سے مختلف اشیا نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم، ویڈیوز میں دکھائی دینے والے سامان کی مکمل شناخت اور اس کی اصل حیثیت کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
اہم وضاحت
یہ خبر بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور سرکاری بیانات میں سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ جہازوں کے ڈوبنے کے واقعات اور ان کی وجوہات سے متعلق حتمی نتائج کے لیے مزید تصدیق اور تحقیقات ضروری ہیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں