دلچسپ و عجیب
گوجر خان میں 1986 ماڈل فورڈ ویگن کے چرچے، مالک کو لینڈ کروزر اور فورچونر سے بھی زیادہ پسند
16-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
27 وزٹ
Read in English
گوجر خان: راولپنڈی کی تحصیل گوجر خان کے علاقے جرموٹ میں 1986 ماڈل فورڈ ویگن اپنی منفرد شناخت اور اصل حالت کے باعث لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ 90 کی دہائی میں برطانیہ (UK) سے درآمد کی گئی یہ گاڑی آج بھی اپنے مالک کے شوق اور پرانی گاڑیوں سے محبت کی ایک دلچسپ مثال ہے۔
1986 ماڈل فورڈ ویگن کی خاص بات کیا ہے؟
گاڑی کے مالک کے مطابق یہ فورڈ ویگن مکمل طور پر جینوئن حالت میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑی کی اصل حالت برقرار رکھنا ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، اور وہ اسے محض ایک سواری نہیں بلکہ اپنے شوق کا حصہ سمجھتے ہیں۔
مالک نے اپنی پسند کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں یہ فورڈ ویگن لینڈ کروزر اور ٹویوٹا فورچونر جیسی مشہور گاڑیوں سے بھی زیادہ پسند ہے۔ وہ اسی گاڑی میں گھومنے پھرنے کے لیے نکلتے ہیں اور اسے استعمال کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔
بیرونِ ملک سے درآمد، آج بھی مالک کی پسندیدہ گاڑی
90 کی دہائی میں برطانیہ سے پاکستان آنے والی یہ گاڑی کئی دہائیوں بعد بھی اپنے مالک کے پاس موجود ہے۔ پرانی گاڑیوں کے شوقین افراد کے لیے ایسی گاڑیاں خاص دلچسپی رکھتی ہیں، خصوصاً جب ان کی اصل ساخت اور ظاہری حالت کو حتی الامکان برقرار رکھا گیا ہو۔
آج کے جدید اور جدید سہولیات سے لیس گاڑیوں کے دور میں بھی اس فورڈ ویگن کے لیے مالک کی پسند اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ گاڑی کی قدر صرف اس کی قیمت، برانڈ یا جدید فیچرز سے نہیں ہوتی، بلکہ اس سے وابستہ شوق اور جذبات بھی اہم ہوتے ہیں۔
شوق کا کوئی مول نہیں!
گوجر خان کے علاقے جرموٹ میں موجود یہ 1986 ماڈل فورڈ ویگن پرانی گاڑیوں کے شوقین افراد کے لیے ایک منفرد کشش رکھتی ہے۔ مالک کی جانب سے اسے لینڈ کروزر اور فورچونر پر ترجیح دینا بھی گاڑیوں سے ان کی خاص وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
آپ کے خیال میں پرانی گاڑیوں کا اصل حسن ان کی جینوئن حالت میں ہے یا جدید گاڑیوں کی سہولیات میں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
1986 ماڈل فورڈ ویگن کی خاص بات کیا ہے؟
گاڑی کے مالک کے مطابق یہ فورڈ ویگن مکمل طور پر جینوئن حالت میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑی کی اصل حالت برقرار رکھنا ان کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، اور وہ اسے محض ایک سواری نہیں بلکہ اپنے شوق کا حصہ سمجھتے ہیں۔
مالک نے اپنی پسند کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں یہ فورڈ ویگن لینڈ کروزر اور ٹویوٹا فورچونر جیسی مشہور گاڑیوں سے بھی زیادہ پسند ہے۔ وہ اسی گاڑی میں گھومنے پھرنے کے لیے نکلتے ہیں اور اسے استعمال کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔
بیرونِ ملک سے درآمد، آج بھی مالک کی پسندیدہ گاڑی
90 کی دہائی میں برطانیہ سے پاکستان آنے والی یہ گاڑی کئی دہائیوں بعد بھی اپنے مالک کے پاس موجود ہے۔ پرانی گاڑیوں کے شوقین افراد کے لیے ایسی گاڑیاں خاص دلچسپی رکھتی ہیں، خصوصاً جب ان کی اصل ساخت اور ظاہری حالت کو حتی الامکان برقرار رکھا گیا ہو۔
آج کے جدید اور جدید سہولیات سے لیس گاڑیوں کے دور میں بھی اس فورڈ ویگن کے لیے مالک کی پسند اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ گاڑی کی قدر صرف اس کی قیمت، برانڈ یا جدید فیچرز سے نہیں ہوتی، بلکہ اس سے وابستہ شوق اور جذبات بھی اہم ہوتے ہیں۔
شوق کا کوئی مول نہیں!
گوجر خان کے علاقے جرموٹ میں موجود یہ 1986 ماڈل فورڈ ویگن پرانی گاڑیوں کے شوقین افراد کے لیے ایک منفرد کشش رکھتی ہے۔ مالک کی جانب سے اسے لینڈ کروزر اور فورچونر پر ترجیح دینا بھی گاڑیوں سے ان کی خاص وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
آپ کے خیال میں پرانی گاڑیوں کا اصل حسن ان کی جینوئن حالت میں ہے یا جدید گاڑیوں کی سہولیات میں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں