سہیل آفریدی کا علی امین گنڈاپور سے متعلق اہم بیان،
10-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
31 وزٹ
Read in English
پشاور، 10 اکتوبر 2026: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے، کیونکہ انہوں نے علی امین گنڈاپور کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر تقریباً 200 ارب روپے خرچ کرنے اور پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک موٹروے تعمیر کرنے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔
پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک موٹروے تعمیر کرنے کا اعلان
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک موٹروے تعمیر کی جائے گی۔ ان کے مطابق رواں سال خیبر پختونخوا میں ترقیاتی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم ثابت ہوگا۔
انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کو صوبے کی ضروریات اور عوامی سہولیات میں بہتری کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں میں ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر تقریباً 200 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، اس رقم کی تفصیلات، منصوبوں کی فہرست اور موٹروے کی تعمیر کے شیڈول سے متعلق سرکاری دستاویزات کی تصدیق ضروری ہے۔
گورنر کے اجلاس بلانے پر وزیراعلیٰ کا اعتراض
سہیل آفریدی نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے اجلاس بلانے کے معاملے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اقدام قرار دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول، سیاسی معاملات کے حل کے لیے نو ماہ تک انتظار کیا گیا، لیکن مطلوبہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات پر زور
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ اختلافات کو بات چیت اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کریں۔ ان کا مؤقف تھا کہ سیاسی کشیدگی میں کمی اور مسائل کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات ضروری ہیں۔
اہم وضاحت: گورنر کے اجلاس بلانے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دینا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مؤقف ہے۔ اس معاملے کی آئینی حیثیت کا تعین متعلقہ قانونی دفعات اور حقائق کی روشنی میں کیا جائے گا۔ اسی طرح ترقیاتی بجٹ اور مجوزہ موٹروے سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وژن کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ صوبے میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کرنے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔
پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک موٹروے تعمیر کرنے کا اعلان
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک موٹروے تعمیر کی جائے گی۔ ان کے مطابق رواں سال خیبر پختونخوا میں ترقیاتی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم ثابت ہوگا۔
انہوں نے ترقیاتی منصوبوں کو صوبے کی ضروریات اور عوامی سہولیات میں بہتری کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مختلف شعبوں میں ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق صوبے میں ترقیاتی منصوبوں پر تقریباً 200 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، اس رقم کی تفصیلات، منصوبوں کی فہرست اور موٹروے کی تعمیر کے شیڈول سے متعلق سرکاری دستاویزات کی تصدیق ضروری ہے۔
گورنر کے اجلاس بلانے پر وزیراعلیٰ کا اعتراض
سہیل آفریدی نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے اجلاس بلانے کے معاملے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اقدام قرار دیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول، سیاسی معاملات کے حل کے لیے نو ماہ تک انتظار کیا گیا، لیکن مطلوبہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات پر زور
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ اختلافات کو بات چیت اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کریں۔ ان کا مؤقف تھا کہ سیاسی کشیدگی میں کمی اور مسائل کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات ضروری ہیں۔
اہم وضاحت: گورنر کے اجلاس بلانے کے اقدام کو غیر آئینی قرار دینا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مؤقف ہے۔ اس معاملے کی آئینی حیثیت کا تعین متعلقہ قانونی دفعات اور حقائق کی روشنی میں کیا جائے گا۔ اسی طرح ترقیاتی بجٹ اور مجوزہ موٹروے سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں