Mansehra.com مانسہرہ ڈاٹ کام
27 ربیع الثانی 1448 ہجری ہفتہ، 10 اکتوبر 2026·26 اسو
آج کی حدیث رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا، جمعہ کا دن ہے۔“ 854 حوالہ: صحیح مسلم، حدیث نمبر
تازہ ترین
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی تیاریاں مکمل؟ عادل شہباز کا بڑا دعویٰ، فیصلہ آئندہ 48 گھنٹوں میں متوقع ● مردان: ایمرجنسی نافذ ہوئی تو کیا لانگ مارچ کا رخ پشاور کی طرف ہوگا؟ سہیل آفریدی کا وفاقی حکومت کو دوٹوک جواب ● کراچی: کم عمر لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے خدشات، والدہ اور دو بہنوں سمیت تین خواتین آف لوڈ ● بالاکوٹ: 14 سالہ بچے سے مبینہ زیادتی اور تصاویر کے ذریعے بلیک میلنگ کا الزام، ملزم گرفتار ● ایبٹ آباد: بازار میں خواتین کے بیگ اور پرس سے رقم نکالنے والی 3 خواتین گرفتار ● ایبٹ آباد بورڈ کے نئے سیکرٹری مقرر، بالاکوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر منیر احمد سواتی کی تین سالہ ڈیپوٹیشن پر تعیناتی ● اماراتی حکام نے فلائی دبئی کے شریک پائلٹ کے خلاف سزائے موت پر غور شروع کر دیا ہے، تاہم حتمی عدالتی فیصلے کی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔ ● لاہور: تین گھنٹوں میں تین ایف آئی آر، 13 سال بعد پیدا ہونے والے بیٹے کے باپ کا ’جعلی مقابلہ‘ — ایف آئی اے نے 7 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ● خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی تیاریاں مکمل؟ عادل شہباز کا بڑا دعویٰ، فیصلہ آئندہ 48 گھنٹوں میں متوقع ● مردان: ایمرجنسی نافذ ہوئی تو کیا لانگ مارچ کا رخ پشاور کی طرف ہوگا؟ سہیل آفریدی کا وفاقی حکومت کو دوٹوک جواب ● کراچی: کم عمر لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے خدشات، والدہ اور دو بہنوں سمیت تین خواتین آف لوڈ ● بالاکوٹ: 14 سالہ بچے سے مبینہ زیادتی اور تصاویر کے ذریعے بلیک میلنگ کا الزام، ملزم گرفتار ● ایبٹ آباد: بازار میں خواتین کے بیگ اور پرس سے رقم نکالنے والی 3 خواتین گرفتار ● ایبٹ آباد بورڈ کے نئے سیکرٹری مقرر، بالاکوٹ کے پروفیسر ڈاکٹر منیر احمد سواتی کی تین سالہ ڈیپوٹیشن پر تعیناتی ● اماراتی حکام نے فلائی دبئی کے شریک پائلٹ کے خلاف سزائے موت پر غور شروع کر دیا ہے، تاہم حتمی عدالتی فیصلے کی سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے۔ ● لاہور: تین گھنٹوں میں تین ایف آئی آر، 13 سال بعد پیدا ہونے والے بیٹے کے باپ کا ’جعلی مقابلہ‘ — ایف آئی اے نے 7 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا ●

شوکت یوسفزئی کا وفاقی حکومت کو دوٹوک پیغام: دھمکیاں نہ دیں، نہ ایمرجنسی لگا سکتے ہیں نہ گورنر راج

10-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad 0 تبصرے 29 وزٹ
Read in English
پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ اور گورنر راج کی اطلاعات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت دھمکیاں دینے کے بجائے سیاسی مسائل کے حل پر توجہ دے۔ ان کے بقول، وفاقی حکومت ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہیں کر سکتی اور ایسی باتیں پی ٹی آئی پر دباؤ ڈالنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ”سوال یہ ہے“ میں گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وہ اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا نفاذ ممکن نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت اس معاملے پر خود بھی کنفیوژن کا شکار ہے اور مختلف آئینی شقوں کے حوالے سے واضح حکمت عملی نہیں رکھتی۔
آئینی شقوں پر وفاقی حکومت کی حکمت عملی پر سوالات
شوکت یوسفزئی نے اپنے بیان میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو خود واضح نہیں کہ وہ کس آئینی شق کے تحت کارروائی کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ ایک احمقانہ اقدام ہوگا۔
واضح رہے کہ آرٹیکل 232 ہنگامی حالت کے اعلان سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 کسی صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں صدر کے اقدامات سے متعلق ہے۔ ان شقوں کے تحت کسی بھی اقدام کے لیے آئینی شرائط اور مقررہ طریقہ کار کی پابندی ضروری ہے۔
پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے، جتھہ نہیں: شوکت یوسفزئی
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک باقاعدہ سیاسی جماعت ہے جو عوام کے ووٹ لے کر اقتدار میں آئی ہے۔ ان کے مطابق، پُرامن احتجاج کرنا ہر سیاسی جماعت کا حق ہے اور پی ٹی آئی کے مطالبات بھی جائز ہیں۔
انہوں نے وفاقی حکومت کے اس مؤقف پر بھی تنقید کی کہ احتجاج کو حملے یا ریاست مخالف سرگرمی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اپنے سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج کر رہی ہے۔
عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ بحران کے حل کی کنجی قرار
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ پارٹی بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ ان کے مطابق، سیاسی کشیدگی کم کرنے اور موجودہ بحران کا حل تلاش کرنے کے لیے عمران خان سے ملاقات کا راستہ کھولنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے تو اسے پی ٹی آئی کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
سیاسی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ
شوکت یوسفزئی کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کی مخالفت کر رہی ہے۔ دوسری جانب، اس معاملے پر وفاقی حکومت کا حتمی مؤقف اور کسی ممکنہ آئینی اقدام کی تفصیلات سرکاری اعلان کی صورت میں سامنے آنا ضروری ہیں۔
اہم وضاحت: یہ خبر شوکت یوسفزئی کے بیان اور ان سے منسوب دعوؤں پر مبنی ہے۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کے آئینی امکان سے متعلق ان کے مؤقف کو حتمی قانونی فیصلہ نہ سمجھا جائے۔ کسی بھی اقدام کی آئینی حیثیت کا تعین متعلقہ قانونی دفعات اور حالات کی بنیاد پر ہوگا۔

تبصرے (0)

ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ کریں

آپ کا تبصرہ منظوری کے بعد یہاں شائع ہوگا۔ ای میل عام صارفین کو نظر نہیں آئے گی۔