خیبر پختونخوا میں 11 ارکان اسمبلی مبینہ طور پر اغوا یا گرفتار، اسپیکر بابر سلیم سواتی کا دعویٰ
10-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
27 وزٹ
Read in English
پشاور، 10 اکتوبر 2026: اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے دعویٰ کیا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 11 ارکان مبینہ طور پر اغوا کیے جا چکے ہیں یا انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، متاثرہ ارکان میں 8 صوبائی اسمبلی کے ارکان (ایم پی ایز) اور 3 قومی اسمبلی کے ارکان (ایم این ایز) شامل ہیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر سلیم سواتی نے کہا کہ بعض صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی بھی مبینہ طور پر لاپتا ہیں۔ انہوں نے پارٹی ارکان کے گھروں پر چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے صورتحال واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔
کن ارکان اسمبلی کے نام سامنے آئے؟
اسپیکر صوبائی اسمبلی کے مطابق، مبینہ طور پر اغوا یا لاپتا ہونے والے افراد میں صوبائی وزرا فضل شکور اور ڈاکٹر امجد علی کے علاوہ عبدالسلام آفریدی اور محمد ریاض شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایم پی ایز سلطان روم، یامین خان اور محمد اعظم خان بھی مبینہ طور پر لاپتا ہیں، جبکہ فتح الملک ناصر اور داور کنڈی کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں۔
بابر سلیم سواتی نے قومی اسمبلی کے ارکان فضل خان اور زبیر خان کے مبینہ اغوا کا دعویٰ بھی کیا۔
گھروں پر چھاپوں کی مذمت
اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے پارٹی ارکان کے گھروں پر چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات پر تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام ارکان اسمبلی کی موجودگی اور ان کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات کی وضاحت کریں۔
سیاسی صورتحال میں مزید کشیدگی
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے معاملے پر سیاسی بحث جاری ہے۔ ان دعوؤں کے بعد ارکان اسمبلی کی سلامتی، قانونی حیثیت اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اہم وضاحت: ارکان اسمبلی کے اغوا، گرفتاری اور لاپتا ہونے سے متعلق تفصیلات اسپیکر بابر سلیم سواتی سے منسوب ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ابھی ضروری ہے۔ اغوا، گرفتاری اور لاپتا ہونے کی اصطلاحات مختلف قانونی مفہوم رکھتی ہیں، اس لیے ہر معاملے کی الگ تصدیق اہم ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر سلیم سواتی نے کہا کہ بعض صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی بھی مبینہ طور پر لاپتا ہیں۔ انہوں نے پارٹی ارکان کے گھروں پر چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے صورتحال واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔
کن ارکان اسمبلی کے نام سامنے آئے؟
اسپیکر صوبائی اسمبلی کے مطابق، مبینہ طور پر اغوا یا لاپتا ہونے والے افراد میں صوبائی وزرا فضل شکور اور ڈاکٹر امجد علی کے علاوہ عبدالسلام آفریدی اور محمد ریاض شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایم پی ایز سلطان روم، یامین خان اور محمد اعظم خان بھی مبینہ طور پر لاپتا ہیں، جبکہ فتح الملک ناصر اور داور کنڈی کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں۔
بابر سلیم سواتی نے قومی اسمبلی کے ارکان فضل خان اور زبیر خان کے مبینہ اغوا کا دعویٰ بھی کیا۔
گھروں پر چھاپوں کی مذمت
اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے پارٹی ارکان کے گھروں پر چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات پر تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام ارکان اسمبلی کی موجودگی اور ان کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات کی وضاحت کریں۔
سیاسی صورتحال میں مزید کشیدگی
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے معاملے پر سیاسی بحث جاری ہے۔ ان دعوؤں کے بعد ارکان اسمبلی کی سلامتی، قانونی حیثیت اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اہم وضاحت: ارکان اسمبلی کے اغوا، گرفتاری اور لاپتا ہونے سے متعلق تفصیلات اسپیکر بابر سلیم سواتی سے منسوب ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا ابھی ضروری ہے۔ اغوا، گرفتاری اور لاپتا ہونے کی اصطلاحات مختلف قانونی مفہوم رکھتی ہیں، اس لیے ہر معاملے کی الگ تصدیق اہم ہے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں