پولیس
ہری پور: آیت نور کیس میں ضمانت پر رہا لڑکوں کا دورانِ حراست مبینہ بدفعلی کا سنگین الزام
10-اکتوبر-2026 — Qazi Jawad
0 تبصرے
28 وزٹ
Read in English
ہری پور: آیت نور کیس میں ضمانت پر رہا لڑکوں کا دورانِ حراست مبینہ بدفعلی کا سنگین الزام
ہری پور – آیت نور کیس میں ضمانت پر رہا ہونے والے لڑکوں نے پولیس اہلکاروں پر دورانِ حراست مبینہ بدفعلی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
لڑکوں کے الزامات
لڑکوں کا الزام ہے کہ:
· ٹی آئی پی تھانے میں وقاص عرف وکی اور محرر سلیمان نے ان کے ساتھ بدفعلی کی
· تھانہ صدر میں بھی ان کے ساتھ بدفعلی کی گئی
· ان کے مخصوص اعضا ایک دوسرے کے منہ میں ڈالے گئے
· ایس پی ثمینہ ظفر، ڈی ایس پی تنویر اور ایس ایچ او شہریار کی موجودگی میں یہ سب ہوا
لڑکوں کا کہنا ہے کہ سامنے آنے پر وہ اہلکاروں کی شناخت کر سکتے ہیں۔
ایس پی کا مبینہ جملہ
لڑکوں کے مطابق ایس پی ثمینہ ظفر نے ان سے کہا:
"تمہارا ----- کاٹ کر تمہاری ماں میں ------- گی۔"
درخواست
ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے ڈی پی او ہری پور کو درخواست دے دی گئی ہے۔
اہم نوٹ
یہ الزامات فی الحال متاثرہ لڑکوں کے بیان پر مبنی ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، اور نہ ہی متعلقہ پولیس حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سرکاری وضاحت سامنے آئی ہے۔
اس نوعیت کے سنگین الزامات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
ہری پور – آیت نور کیس میں ضمانت پر رہا ہونے والے لڑکوں نے پولیس اہلکاروں پر دورانِ حراست مبینہ بدفعلی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
لڑکوں کے الزامات
لڑکوں کا الزام ہے کہ:
· ٹی آئی پی تھانے میں وقاص عرف وکی اور محرر سلیمان نے ان کے ساتھ بدفعلی کی
· تھانہ صدر میں بھی ان کے ساتھ بدفعلی کی گئی
· ان کے مخصوص اعضا ایک دوسرے کے منہ میں ڈالے گئے
· ایس پی ثمینہ ظفر، ڈی ایس پی تنویر اور ایس ایچ او شہریار کی موجودگی میں یہ سب ہوا
لڑکوں کا کہنا ہے کہ سامنے آنے پر وہ اہلکاروں کی شناخت کر سکتے ہیں۔
ایس پی کا مبینہ جملہ
لڑکوں کے مطابق ایس پی ثمینہ ظفر نے ان سے کہا:
"تمہارا ----- کاٹ کر تمہاری ماں میں ------- گی۔"
درخواست
ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے ڈی پی او ہری پور کو درخواست دے دی گئی ہے۔
اہم نوٹ
یہ الزامات فی الحال متاثرہ لڑکوں کے بیان پر مبنی ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، اور نہ ہی متعلقہ پولیس حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی سرکاری وضاحت سامنے آئی ہے۔
اس نوعیت کے سنگین الزامات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
تبصرے (0)
ابھی کوئی تبصرہ موجود نہیں — پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ کریں