|
|
محکمہ صحت مانسہرہ
مانسہرہ
01/07/2009 12:00:00 AM
رپوٹر
نادر خان
|
14 لاکھ آبادی پر مشتمل ضلع مانسہرہ کا واحد سرکاری ہسپتال جو کہ 8 اکتوبر 2005 کے ھولناک زلزلہ میں بُری طرح متاثر ھوا۔ عرصہ چار سالوں سے صوبائی حکومت کے رحم و کرم پر ھے کہ کب اسکی تعمیرِ نو کی منظوری دی جاۓ گی۔ ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال مانسہرہ 1978 سے 1998 تک 107 بستروں کے چھوٹے سے ہسپتال کے طور پر ضلع کی آبادی کی ضرورتوں کو بجا لاتی رہی جسے فرنٹئیر میڈیکل کالج کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدہ کے ذریعے جوڑ دیا گیا۔ جس میں سالانہ 50ہزار روپے فی طالب علم فیس طے کر دی گئی،ان حاصل شدہ فیسوں کی مد میں سے اور 8 ملین صوبائی حکومت کی گرانٹ سے ہسپتال کو 200سے 250 بستروں کا ہسپتال بنا دیا گیا۔ بعد میں SACپروگرام کے تحت اسے اپ گریڈ کیا گیا، 180 بیڈ اِن ڈور بلاک، آپریشن تھیٹر اور ایڈمنسٹریشن بلاک بناۓ گیۓ۔ مگر بدقسمتی سے یہ نئی تعمیر شدہ بلڈنگز 2005 کے تباہ کُن زلزلے میں بُری طرح تباہ ھوئیں اور مجبوراً مریضوں کو ایک سال کے لیۓ کُھلے میدان میں رکھنا پڑا، جبکہ بعد میں ہاسٹل کو ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا، جو کہ آج تک عارضی ہسپتال کے طور پرکام کر رھی ھے۔
اس دوران سعودی حکومت نے 2006 میں ڈی ایچ کیو کی اَز سرِ نو تعمیر کا وعدہ کیا اور 500 بیڈ کا ہسپتال بنانے کا اعلان کیا، جس کے پہلے مرحلے میں ایرا نے PC.1 تیار کی، جسکی کُل رقم 450 ملین روپے بنتی ھے۔ اس سلسلے میں چیف سیکرٹری اور محکمہ صحت کے ساتھ ساتھ ایرا کے درمیان درجنوں میٹنگز بھی ھوئیں جو کہ تاحال جاری ہیں۔ اس دوران ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا نام تبدیل کر کے کِنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال رکھ دیا گیا۔ یہاں فوری ضرورت یہ تھی کہ سعودی حکومت نے تمام ہسپتال کو اَزسرِ نو تعمیر کا وعدہ کے ساتھ خالی گراؤنڈ مانگا تھا، تاکہ تمام جدید ترین سہولیات سے مزین ہسپتال کی تعمیر ممکن ھو سکے۔ اس ضمن میںرپورٹ ورک اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ مانسہرہ کے سیکرٹری ہیلتھ این ڈبلیو ایف پی کو تصدیق کے لیے بھیج دی گئی،اور جب اس سلسلے میں مزید معلومات کے لیۓ ایم ایس ڈاکٹرنیاز سے رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے بتایا کہ ہسپتال کو گرانے کا کام اپنے ٹھیک وقت پر شروع ھوا، مگر اسکی PC.1اور دیگر صلاح ومشوروں میں جو وقت ضائع ھوا اسے ڈھائی سال کے تعمیری وقت کی بجاۓ 2سالوں میں ہی مکمل کر کے 6 ماہ کا ٹائم بچایا جاۓ گا۔ ضرورت اس اَمر کی ھیکہ اس وقت زلزلہ زدہ علاقہ ضلع مانسہرہ جس کے تمام مراکزِ صحت 8 اکتوبر کے ھولناک زلزلہ میں بُری طرح تباہ ھوۓ انکی تعمیرِ نو اور عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات بہم پہنچانا حکومتِ پاکسان کا اولین فرض تھا مگر 14 لاکھ آبادی کے اس شہرمیں چند درجن بستروں کا عارضی ہسپتال کا ھونا اور ہر دوسرے مریض کو ایبٹ آباد ریفر کرنا انتہائی دُکھ اور کرب کا مقام ھے۔ سعودی حکومت نے 500 بیڈز کے جدید ہسپتال کا وعدہ کیا وہاں چاہیۓ تو یہ تھا کہ فوری طور پر اسکی تیاریاں کی جاتی تاکہ ضلع مانسہرہ ، بٹگرام اور گِردونواح سے آنے والوں کو صحت کی فوری سہولیات میسر آسکیں۔ انتہائی افسوس کی بات یہ ہیکہ بڑے بڑوں کی ذاتی چپقلش کے پیشِِ نظر یہ بڑا منصوبہ تعطل کا شکار ھوگیاھے، اور یہ کوئی نئی بات نہیں ھے قارئین جانتے ہیں کہ جب کبھی بھی مانسہرہ میں کوئی اچھا ھونے لگا یا کوئی بڑا منصوبہ مانسہرہ کے لیۓ منظور ھوا تو وہاں سیاسی جانبازوں نے ذاتی مفادات کی خاطر اُسے طول دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مانسہرہ کو اُس سے محروم ھونا پڑا۔
اِن نامصائب حالات میں ھم ایم ایس ڈاکٹر محمد نیاز، ای ڈی او جاوید خان سمیت تمام ٹیم کو صرف صبر کرنے کا کہہ سکتے ہیں، اور دُعا گو ہیں کہ اپنے اُن لیڈروں کے لیۓ جو لمبی تان کر سوے ھوۓ ہیں کہ انھیں اپنی ذمہ داری کا احساس ھو جاۓ۔