|
|
مہتاب شاہ
شوبز مانسہرہ
مانسہرہ
08/09/2009 12:00:00 AM
رپوٹر
فیصل شہزاد
|
خوش قسمت بننا ممکن ھے ناممکن نہیں۔ خوش قسمتی انتھک محنت اور اپنے شعبے سے لازوال محبت کے پُر خطر راستے سے ھوکر گزرتی ھے۔ سہانے خواب ھر کوئی دیکھتا ھے لیکن اسکی تعبیر اپنی آنکھوں کے سامنے گنتی کے چند افراد ھی دیکھ پاتے ہیں۔ مہتاب شاہ بھی ان چند خوش قسمت اشخاص میں سے ایک ھے جھنوں نے فلم انڈسٹری کی سنگ دل اور تنگ دل گلیوں میں قدم کب رکھا یہ خود انھیں بھی معلوم نہیں ھے۔ بچپن کا شوق اور کچھ کر دکھانے کا ولولہ بس یہی لگن تھی جس نے 1986 میں اُٹھان لی اورانھوں نے پہلے ہندکو ڈرامے کی داغ بیل ڈالی ۔ اس ڈرامے کی پذیراری سے پتا چلا کہ مہتاب شاہ کی معصوم شکل و صورت کے پردے پیچھے ایک مصنف،ہدایتکار چُھپا ھوا ھے۔ ڈرامے کی ہدایتکاری سے ٹیلی فلم تک کایہ سفر جاری ھے اور اب ایک اور اضافہ جو کہ انکے فن کا منہ بولتا ثبوت ھے وہ یہ کہ انھوں نے ہندکو زبان میں ملی نغمہ گایا جسے ملک گیر پذیرائی حاصل ھوئی۔
مہتاب شاہ کا تعلق ھزارہ کے شہر بالاکوٹ کے گاؤں تلہٹہ سے ھے، میٹرک کرنے کے بعد کراچی میں سکونت اختیار کر لی،اور تعلیم کے ساتھ ساتھ شوبز کو بھی جوائن کرلیا۔ تاریج پیدائش 15 جون ھے اور سٹار جوزا ھے ۔ اپنی فنی زندگی کا آغاز کراچی اسٹیج سے کیا۔ 1986 میں انھوں نے پہلی بار پاکستان میں ہندکو اسٹیج ڈراموں کورواج دیا۔ انھوں نے اپنا اپہلا ڈرامہ "ماسی دیا پُترا" جو فلیٹ کلب لکی اسٹار کراچی کے اسٹیج سے پیش کر کے اہلِ ہندکو کو اپنے کلچر سے روشناس کرانے کی بنیاد ڈالی۔
اپنے فنی کیرئیر کی ابتداء کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ انھوں نے آڈیو گانوں کی کیسٹس میں ڈائیلاگ ریکارڈ کروانے کی روایت ڈالی۔ جس سے انھیں بہت پذیرائی ملی، ان ڈائیلاگز نے آگے چل کر فلمی مکالموں کی شکل اختیار کرلی۔ جس دن سے مہتاب شاہ نے ہندو فلم بنانے کا خواب دیکھا اس دن کے بعد 20 سال تک مہتاب شاہ کے ہر کام اور ہر سوچ کی تان ہندکو فلم کی منصوبہ بندی پر آکر ٹوٹتی رھی۔ اس خواب کی تکمیل کے لیے مہتاب شاہ نے بہت سی قربانیاں دیں، یہاں تک کہ اس فلم سازی کے روگ میں مہتاب شاہ کو گھر سے بے دخل کیا گیا دوستوں نے منہ موڑ لیا، وہ حویلی سے سڑک پر آگیۓ تھے لیکن انھوں نے ہمت نہيں ہاری اور آخرِ کار 20سالہ محنت اور قربانی نے انھيں اپنا مقام بنانے اوراپنے خواب کو حقیقت کا رنگ دینے کا موقع فراہم کیا اور یوں انکی پہلی ہندکو فلم" چاچی جُل کراچی" منظر عام پر آگئی اور انھیں انکی تمام تکالیف اور قربانیوں کا پھل مل گیا۔
مہتاب شاہ نے ہندکو فلم بنا کر نہ صرف اپنا خواب پورا کیا بلکہ سچ تو یہ ھیکہ "ممی ڈیڈی" کے اس دور میں آزاد کشمیر سے مری و راولپنڈی تک، بالاکوٹ سے حسن ابدال، اٹک اور پشاور تک، اور مقبوضہ کشمیر سے دُنیا بھر میں پھیلے ھوۓ اہلِ ہندکو کو اپنی زبان اور ثقافت پر فخر کرنا اور محبت کرنا بھی سکھایا ھے۔ ہندکو زبان بولنے والے عام طور پر اُردو بولتے ،لکھتے اور پڑھتے ہیں، جسکی وجہ سےبڑے دماغ اس بولی پر کام کرنے کو فضول کام سمجھتے ہیں۔ مگر مہتاب شاہ نے انھیں اس پر فخر کرنا سکھا دیا ھے۔ تعجب تو یہ ھیکہ کراچی کے اردو اہلِ زبان تک نے "چاچی جُل کراچی" کے مفہوم سے واقفیت حاصل کر لی ھے۔
مہتاب شاہ کی اس ٹیلی فلم کی ایک یہ خوبی ھیکہ انھوں نے یہ فلم ایک عام آدمی پر بنائی ھے۔ اس وقت پاکستان کی بیشتر فلموں اور ٹی وی ڈراموں کا یہ المیہ ھیکہ انکی کہانی پاکستان کے 17 کروڑ عوام کی زندگی کے برعکس ھوتی ھے اور فلمی کہانی صرف 2 فیصد ہائی سوسائیٹی کے گرد گھوم رھی ھوتی ھے۔ مہتاب شاہ نے اس فلم میں تماش بین کو فلم کا حصہ بنایا ھے ۔ جس کے باعث انکی اس ٹیلی فلم کو بے پناہ مقبولیت حاصل ھوئی ھے۔
ہندکو فلم کی جانب سب سے پہلے توجہ قتیل شفائی نے دی تھی مگر زندگی نے انکا ساتھ نہ دیا اور پھر مہتاب شاہ نے انکی سوچ کو عملی جامہ پہنایا اور اس طرح مہتاب شاہ کو ہندکو فلم سازی کا بانی کہا جاسکتا ھے کیونکہ وہ پہلے ہندکو فلمی مصنف، پہلے ہدایتکار اور پہلے اداکار بھی ہیں۔ اداکاری کے ساتھ ساتھ لکھنے کا شوق بھی جاری رھا اور اسی شوق میں درجنوں اردو اسٹیج ڈرامے لکھے اور انکی ہدایات بھی دیں اور تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد اسٹیج ڈراموں میں اداکاری کی اور تقریباً پچاس کے قریب اسٹیج ڈراموں میں ہدایتکاری اور مصنف نگاری کے جوھر دکھا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے کئی سنجیدہ کھیل پیش کر کے متعدد فیسٹیول میں گولڈ میڈل اوربہترین ڈرامہ نگارکے اعزاز بھی حاصل کیۓ ۔ اس کے علاوہ 1999 سے 2006 تک مہتاب شاہ نے ایک بہترین کمپئیر کے طور پر کراچی بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں مختلف پروگرام بھی کیۓ۔
مہتاب شاہ نے نیشنل اکیڈمی آف پُرفامنگ آرٹ کا پہلا بیج بھی جوائن کر لیا۔ مہتاب شاہ کی یہ خوش نصیبی ھیکہ انھوں نے ضیاء محی الدین، طلعت حسین، راحت کاظمی،محسن شیرازی، نعیم بخاری اور انور سجاد جیسے کہنہ مشق اساتذہ اکرام سے تربیت حاصل کی۔ مہتاب شاہ کی ہندکو زبان سے بے پناہ لگن نے ہندکو نوجوانوں میں ایک نئی لگن بیدار کردی ھے۔ اسٹیج ، فلم، اورٹیلی ویڎن کے ملے جُلے تجربے نے آخر کار مہتاب شاہ کو پاکستان کی پہلی ہندکو فلم" چاچی جُل کراچی" جیسی معیاری، صاف ستھری اور گھریلو فلم بنانے کا اعزاز بخشا۔ مذکورہ فلم میں ہزارہ کی وہ قیمتی یادیں آج بھی روزِ روشن کی طرح محفوظ ہیں جو کہ 8 اکتوبر 2005 کے زلزلے نے صفحہ ہستی سے مٹا ڈالی،کیونکہ اس ہندکو فلم کی شوٹنگ زلزلے سے چند روز قبل جھیل سیف الملوک، ناراں، کاغاں، مہانڈری، کیوائی، بالاکوٹ بسیاں، جابہ، مانسہرہ، تربیلہ ڈیم، کرپلیاں، چندور، پہامبہ، لڈر منگ، کھرکوٹہ، ہریپور، دھنکہ شریف، حویلیاں، ایبٹ آباد، بدھوڑ کے علاوہ کئی مقامات پر عکس بندی کی گئی تھی۔ ان مقامات کو زلزلہ نے تہس نہس کر کے رکھ دیا ھے اور اب انکی یاد گار ھی باقی ھے جسے مہتاب شاہ نے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا ھے۔ یہ کہانی جہاں ھزارہ کی تہذیب و تمدن کی عکاسی کرتی ھے وہاں ھی اس فلم میں ایک ایجوکیشنل ٹریٹمنٹ کی کہانی بھی موجود ھے۔ اس فلم کی کامیابی نے جہاں مہتاب شاہ کے حوصلوں کو جلا بخشا ھے وھیں اہلِ ھزارہ کا سر فخر سے بلند کردیا ھے۔ "چاچی جُل کراچی" کی بے پناہ کامیابی کے بعد ھزارہ پروڈکشن ہاؤس کراچی کے بینرز تلے بننے والی فلم "پہولا تے پہولی" کی ریکارڈنگ کراچی سے شروع کر دی گئی ھے۔ اس فلم میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا ہندکو ملی نغمہ شامل کیا گیا ھے۔ اس فلم کے ھدایتکار اور مصنف مہتاب شاہ ہیں۔ فلم کا موضوع بھی اولاد کے حقوق پر مبنی ھے۔ مہتاب شاہ کا کہنا ھیکہ فلموں سے معاشرے کا سدھار ممکن ھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی سرپرستی بھی ضروری ھے۔
اُمید ھیکہ وہ دن ضرور آئیگا کہ جب مہتاب شاہ کو انکو ہندکو زبان کی ترویج اور ترقی کے لیۓ 22 سالہ خدمات کے اعتراف میں قومی ایوارڈ دیا جائیگا۔ ہمارے ہاں بد نصیبی یہ ھیکہ پاکستان میں اکثر ایوارڈ فنکار کو زندگی میں نہیں ملتے ہاں البتہ ایسے لوگوں کے دنیا سے چلے جانے کے بعد انکے نام کی شامیں ضرور منائی جاتیں ہیں اور ایوارڈ بھی دیۓ جاتے ہیں ۔