|
|
ٹول پلازہ مانسہرہ
ٹول پلازہ مانسہرہ
مانسہرہ
06/03/2010 12:00:00 AM
رپوٹر
نادر خان
|
ضلع مانسہرہ اس حوالے سے بہت بدقسمت رھا ھیکہ یہاں کے سیاستدانوں نے ہمیشہ بلیک میلنگ کو قبول کیا، مرکزی یا صوبائی حکومتوں کی جانب سے جب بھی کو ٹیکس یا بھاری بُلند وصولی کی بات ھوئی یہاں کے سیاستدانوں نے ہر بات پر لبیک کہہ کر عوام کی چمڑی اُدھیڑنے میں حکومت کا بھر پور ساتھ دیا۔ ضلع کی ترقی کے متعلق جب بھی کوئی بڑا منصوبہ ائیرپورٹ، میڈیکل کمپلیکس یا کِڈنی سنٹر کے قیام کی بات ھوئی بڑے خوانین اور سیاستدانوں نے روڑے اَٹکا کے اس منصوبے کو تہس نہس کردیا۔
مُشترکہ مفادات کے برخلاف صرف ٹیکسز کی وصولی کے لیۓ یہ لوگ ہمیشہ ایک قطار میں نظر آۓ، 12 سال قبل غازی کوٹ ٹول پلازہ کے نام پر اُسوقت کی حکومت نے یہ کہہ کر کہ سڑکیں تعمیر کرینگے ظالمانہ ٹیکسز کا سلسلہ شروع کیا۔ چاھیۓ تو یہ تھا کہ یہاں کے سیاستدان اس غیر قانونی ٹول پلازہ کے خلاف صف آراء ھوتے، یہاں کےسیاستدانوں نے روایتی خاموشی اختیار کرتے ھوے عوام اور انتظامیہ کو سڑکوں پر گھیراؤ، جلاؤ اور مارو مارنے کے لیۓ چھوڑ دیا جس میں 2 انسانی جانوں کا ضیاع بھی ھوا مگر پھر عوام ہار گئی، اس دوران ٹرانسپورٹ یونین کی جانب سے ایک نخیف سی آواز کو ضلعی حکومتوں نے اپنے حق میں استعمال کرتے ھوۓ ٹول پلازہ کی آمدن کا 30 فیصد اپنے نام کردیا اور عوام الناس سے کہا کہ اس رقم سے وہ ضلع مانسہرہ میں ترقیاتی پیکجز کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ مرتے کیا نہ کرتے عوام نے ضلع مفاد کی خاطر ایک مرتبہ پھر ٹول پلازہ کو قبول کر دیا۔
کروڑوں روپے سالانہ کمانے والوں نے اِس رقم سے صرف ایک جہاز شاہراہِ ریشم پر لگا کر عوامی ٹیکسز لینے کا حق ادا کر دیا، مگر چند روز قبل ضلعی حکومتوں کے خاتمے کے بعد غیورعوام نے ایک مرتبہ پھر ٹول پلازہ اُکھاڑو مہم کا آغاز کردیا ھے اور اس مرتبہ ٹرانسپورٹ یونین کے ساتھ ساتھ انجمنِ تاجران، وکلاء، طلباء اور رفاعی تنطیموں نے بھی بھرپور ساتھ دینے کا کہا ھے اور 8 مارچ کو مکمل شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ھے۔
دوسری جانب این ایچ اے نے ٹول پلازہ کو ہمیشہ کے لیۓ قائم رکھنے کے لیۓ کوششیں تیز کرتے ھوۓ ایک سال کا ٹھیکہ دینے کا اعلان کیا ھے۔ موجودہ صورتحال میں جب اس ٹول پلازہ کی مکمل آمدن این ایچ اے کو جانے والی ھے، ھم تھورا اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ہمیں اس سے کیا ملا؟
ٹول پلازہ کے قائم کرنے کا مقصد ایک خاص مُدت تک وہاں لگا کر سڑکوں کی تعمیر پر ھونے والا خرچہ کو پوارا کرنا اور سڑکوں کی مزید تعمیر کے معاملات پر خرچ کرنا ھوتا ھے مگر مانسہرہ میں ایسا کچھ نہ ھوسکا، تو اب میرے خیال میں یہ ٹول پلازہ ختم کر دینا چاھیۓ۔ دوسری اھم وجہ اس ٹول پلازہ کی یہ کہ این ایچ اے کے قاعدے کے مطابق اسے یہاں ھونا ہی نہیں چاھیۓ بلکہ اگر ضروری ھے تو اسے کوھستان میں لگانا چاھیۓ تھا۔ جتنا عرصہ یہاں لگا رھا صرف ضلعی مفاد کے نام پر لگا رھا۔ اَب ضلعی حکومتوں کے خاتمے کے بعد اسے ختم ھونا عوام الناس کا دیرنیہ خواب ھے۔
جنگ، جھگڑے، گھیراؤ، جلاؤ اور عوام اور انتظامیہ کے درمیان ٹکراؤ سے قبل سیاستدانوں کو چاھیۓ کہ وہ صوبائی اسمبلیوں میں اس نازک مسئلہ کو اُٹھا کراس کے خاتمہ کی کوششیں کریں۔