|
|
قانون کی با لا د ستی
غزالہ اعوان
ایپٹ آباد حال یوکے
26/02/2010 12:00:00 AM
رپوٹر
شفقت نیاز
|
قانون کی با لا د ستی
آزاد عدلیہ ہر ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ہم سب اس بات کو مانتے اور جانتے ہیں مگر جب اسکو اختیا ر دینے کی بات ہوتی ہے تو ہم سب پیچھے ہٹنے لگتے ہیں . کیوں کے ہم جانتے ہیں اگر عدلیہ سچ مچ خودمختار ہو گئی تو ہم بے اختیار ہو جائیں گے .بے اختیاری کا یہ خوف ہمیں کہیں نہ کہیں بے چین رکھتا ہے اور موقع پاتے ہی ہم عدلیہ کی خود مختاری پر چوٹ لگا تے ہیں.
دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں سب سے زیا دہ توجہ قانون کی بالاد ستی اور عدلیہ کی مضبوطی پر دی جاتی ہے.تا کہ ملک میں امن اور سکون رہے اور کوئی بھی شخص یا ادارہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرے .چین،امریکا ، کینیڈ۱ ،برطانیہ جرمنی فرانس میں اس کی مثالیں موجود ہے اور اگر ہم اسلامی ممالک میں دیکھیں تو سعودی عرب اور مڈل ایسٹ اس کی بہترین مثال ہے .دنیا کے ہر ملک نے کچھ نہ کچھ بنیادی اصول ایسے رکھے ہوتے ہیں جن پر ملک کی ترقی کا دارو مدار ہوتا ہے اور ہر منتخب حکومت اسکو قائم رکھتی خوا کیسے ہی حا لات کیوں نہ ہوں .ہماری بدقسمتی یہ ہےکہ آج تک ہم صرف اکھاڑ پچھاڑ میں ہی لگے ہوئے ہیں. حکومت کوئی بھی رہی ہو چاہے فوجی ہو یا متخب ہو یا پھر مسلط کی گئی ہو سب کا مقصد صرف اپنی حکومت کو طول دینا اور اپنی بقا کی جنگ لڑنا ہوتا ہے .اور اگر کوئی اتفاق سے پاکستان کے لے کچھ اچھا کام کرنا شروع کر دے تو پھر ملک میں ہنگامہ آرائی کرانا سب سے زیادہ ضروری ہوجا تا ہے .
اس میں ہماری عوام کا سب سے زیا د قصور ہے ہم ہنگاما آرائی اور جلاؤ گھیراؤ میں تو ان لیڈروں کا پورا ساتھ دیتے ہیں پر جہاں اپنے مفاد یا ملکی مفاد کی بات آتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ چھوڑو ہماری کون سننے گا ؟تب ہم یہ بھول جاتے ہیں کے جلاؤ گھیراؤ کرنے والی بھی ہم ہی تھے ، گلوین خانے والے بھی ہم ہی تھے ،ایک حکومت کو اتار کر دوسری حکومت بھی ہماری جانفشانیوں کا نتیجہ ہے .لیڈروں کی قابلیت کا نہیں ،تو جب ہم اتنی طاقت و اختیار رکھتے ہیں تو پھر اس طاقت کو ہم اپنی اور اپنے ملک کی بہتری کے لیے کیوں استمال نہیں کر سکتے.؟ سب قومی ادارے قوم کے لے ہیں اور قوم نے ہی انکو بہتر بنا نا ہے باہر سے کوئی نہیں آے گا اس کو بہتر کرنے کیلے .باہر سے اگر کوئی آے گا تو پھر وہی ہوگا جو آجکل پاکستان میں ہو رہا ہے.یعنی امن و امان کی بار بادی اور ملکی سلامتی کو خطر ہ..
جلاؤ گھیراؤ یا توڑ پھوڑ کبھی بھی کسی مسلے کہ حل نہیں ہوتا .بلکہ چند بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ نا کرنا اور انکی حفاظت کے لے آواز بلند کرتے رہنا ہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے.ادارے ہم سے ہیں، ہم اداروں سے نہیں ہیں . کاغذ پرلکھے ہوئے اصول اور پتھر کے در و دیوار خود کچھ نہیں ہیں ، ہم ہی جو انھیں ایک اچھا یا برا ادرا ہ بناتے ہیں . یہ ہمارا ہی اختیار ہے کے اپنے بنائے ہوئے اصولوں کی پاسداری کریں یا پھر انھیں پامال کریں . اور اگر ہم میں سے کچھ لوگ ان اصولوں کی پامالی کریں تو ہم انکے خلاف کاروائی کریں .لیکن کاروائی اسی وقت ممکن ہوگی جُب عدلیہ آزاد اور مضبوط ہوگی . قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام بغیر کسی کی مداخلت کے کریں . اس کی اہمیت کے با رے میں کہا جاتا ہے کہ " وہ سارے حقوق جو ریاست کا آئین ہمیں دیتا ہے ان کی حسیت ایک بلبلے جیسی ہے ، جب تک کے ایک آزاد عدلیہ اسکی ضمانت نہ دے "انڈریوو جکسن ) یعنی ملکی آئین کی حفاظت صرف آزاد عدلیہ ہی کر سکتی ہے
ہماری حکومتوں کا یہ حال ہے کے کوئی بھی ادراہ انکی بے جا مداخلت سے بچا ہوا نہیں ہے اور اانہوں نے خاص طور پر قانون اور عدالتوں کو موم کی ناک بنا لیا ہے جب چاہا جسےچا ہا موڑ لیا .اِنہیں اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ ان کی اس نادانی سے اس ملک اور اس کے عوام کو کتنا نقصان پہونچتا ہے . اور یہ وہ نقصان ہے جس کو پورا کرنے میں شاید برسوں لگیں ،اور پھر بی پورا نا ہو ..انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کے یہ آج یہاں ہیں کل نہ جا نے کہاں ہوں گے. ہوں گے بھی یا نہیں ہوں گے ! پر یہ ادارے اور یہ ملک آنے والی نسلوں کی امانت ہے اور ہم نے انکو ایک مکمل نظام دینا ہے مضبوط ادارے اور ایک پر امن پاکستان دینا ہے ،آج تعمیر کریں گے تو کل تک محفوظ رکھ سکین گے اور اگر آج نہ سوچا اور تعمیر نہ کیا تو ہم اپنی نی نسل کو کیا دیں گیں؟؟؟